Pages

Showing posts with label Iftikhar Muhammad Chaudhry. Show all posts
Showing posts with label Iftikhar Muhammad Chaudhry. Show all posts

Saturday, February 11, 2012

پُتلے کا انجام

یوسف رضا گیلانی - جسے پاکستان کا وزیر اعظم کہتے ہوۓ سر شرم سے جھک جاتا ہے - کی حیثیت گزشتہ چار سالوں سے ایک ایسے پُتلے کی مانند ہے جو زرداری - جسے پاکستان کا صدر کہتے ہوۓ جھکا ہوا سر زمیں بوس ہو جاتا ہے - کے ہاتھوں میں ناچ رہا ہے اور اس کے ہر قابل نفرت فیصلے پہ عمل کرنے کو اپنا مقصد حیات بناۓ ہوۓ ہے- امید ہے کہ پیر ١٣ فروری کو یہ پتلا توہین عدالت کے جرم میں رسوا ہو کر وزارت عظمیٰ کے عھدے کے لئے نا اہل قرار دے دیا جائے گا اور مستقبل قریب میں اس کے لئے یہ ممکن نہیں رہے گا کہ انتخابات میں "کامیاب" ہو کر پاکستان کی قومی اسمبلی میں دوبارہ نمودار ہو جائے. 

بلندیوں پہ نہ آیا  کبھی  خیال  مجھے 
یہاں بھی ڈھونڈھ ہی لے گا مرا زوال مجھے 

قبر کا مقدمہ 

گیلانی نے اپنے آقا زرداری اور مرحوم مالکہ بینظیر بھٹو کے سیاہ کرتوتوں پہ پردہ ڈالنے کے لئے اپنی قربانی دے کر "شہید" بننے کا فیصلہ کیا ہے! گزشتہ دو سالوں سے گیلانی عدالت عالیہ کے حکم کے برعکس سوئتزرلنڈ کی عدالت کو مطلوبہ خط لکھنے سے مسلسل انکار کرتا رہا ہے کیونکہ یہ اس کے آقا کا حکم تھا- زرداری جیسا چالباز شخص NRO سازش کے کیس کو "شہید بینظیر کی قبر کا مقدمہ" کہتا ہے اور وہ ببانگ دھل اعلان کر چکا ہے کہ اس کی حکومت عدالت عالیہ کے حکم کی تعمیل نہیں کرے گی- زرداری نے گویا اپنے آپ کو آئین اور قانون سے بالا ہستی قرار دے دیا ہے! پاکستانی سیاست میں لفظ "شہید" کو جس بیدردی سے مسخ کیا گیا ہے اس کی مثال مشکل سے کہیں ملے گی- آج کے پاکستان میں سیاست دان قتل نہیں ہوتے، "شہید" ہوتے ہیں! اور جب غدار، وطن فروش، نااہل حکمران اپنے قبیح اعمال کی بدولت اپنے منطقی انجام کو پہنچتے ہیں تو "شہادت" کی پرچی اپنے ماتھے پہ چپکا کے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں- 

پچھلے دو برس کے طویل عرصے پہ محیط ، حکومت اور عدلیہ کی جنگ کے دوران مجھے یوں لگ رہا تھا کہ عدلیہ اپنی ہار مان کے خاموشی اختیار کر لے گی: 
                                                                                                            
پیچ ایسا  ہے  پتنگوں کا  کوئی  کٹتی  نہیں
ڈور کا اب تو سرا ہاتھوں سے نکلا جائے ہے 

مجھے خوشی ہے کہ افتخار محمد چودہری صاحب کے ہاتھ سے ڈور کا سرا نِکَلنے سے پہلے ہی گیلانی کی پتنگ کٹنے والی ہے-



خیرات کے لئے پھیلے ہوۓ ہاتھ 


 زرداری اور گیلانی کی غداریوں اور وطن فروشیوں کا حال آپ اسی بلاگ میں یہاں اور یہاں پڑھ سکتے ہیں- NRO کے متعلق آپ یہاں پڑھ سکتے ہیں- آیندہ چند دنوں میں غالباً ان دونوں کی بداعمالیوں  کی حکایات سے اخبارات بھرے ہوں گے- یہاں میں ان کے خیرات کے لئے پھیلے ہوۓ ہاتھوں کے متعلق کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں- 
پاکستان میں زلزلہ آے، سیلاب آے یا امریکہ کی جارحیت کے رد عمل میں پیدا ہونے والی دہشت گردی کا طوفان آے، یہ دونوں گداگر اپنا اپنا کشکول اٹھائے دنیا سے بھیک مانگنے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں- ان کی اس گدا گری کی عادت سے وطن عزیز کی ناک کٹ جاتی ہے لیکن بھیک کے انبار دیکھ کر یہ فقیر پھولے نہیں سماتے- بعد میں اس بھیک کے متعلق بہت کم معلومات قوم کو دی جاتی ہیں- 

قرضوں کا جال


بھیک کے علاوہ غیر ملکی قرضوں ["امداد"] کی اپنی الگ دردناک کہانی ہے- ہمارے امرا اور جاگیردار براۓ نام ٹکس ادا کرتے ہیں- زرداری کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ ارب پتی ایک پیسا ٹکس کا نہیں دیتا- گیلانی کی دولت کے مینار سنا ہے پچھلے چار سالوں میں تعمیر ہوۓ ہیں لیکن ان پہ ٹکس محض چند ہزار روپے سالانہ ہے- حکومت کے اخراجات پورے کرنے کے لئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ [IMF] سے جی بھر کے قرضے لئے جاتے ہیں- ایک حالیہ خبر یہ ہے کہ زرداری/گیلانی حکومت نے گزشتہ چار سالوں میں اتنے ہی قرضے حاصل کے ہیں جتنے ماضی میں تمام پاکستانی حکومتوں نے لئے تھے- ان قرضوں کو کس طرح استعمال کیا جاتا ہے اس کے متعلق مکمل تفصیلات دستیاب نہیں- کہتے ہیں کہ ایک اچھی خاصی رقم حکمرانوں - جن میں شہری اور فوجی دونوں شامل ہیں - کی جیبوں سے ہوتی ہوئ ان کے غیر ملکی کھاتوں میں منتقل ہو جاتی ہے- ان قرضوں کی ادایگی کے لئے IMF کی انسانیت سوز شرایط پہ عمل کیا جاتا ہے- عام استعمال کی اشیا پہ ٹکس بڑھا دیا جاتا ہے اور گیس، بجلی، تیل، پانی کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کرتی نظر آتی ہیں- ان بیرونی قرضوں کے جال میں پھنسے ہوۓ غریب عوام کی معاشی حالت بد سے بدتر ہوتی چلی جاتی ہے- 

طلوع سحر

جس طرح طلوع سحر سے پہلے تاریکی بہت گہری ہوتی ہے، شاید پاکستان کی تاریک رات بھی ایک شفاف اور امید افزا صبح میں بدلنے والی ہے- خیال ہے کہ عام انتخابات اسی سال ہوں گے- یہ پاکستانی قوم کے لئے ایک سنہری موقع ہے اپنے بد باطن سازشی حکمرانوں (اور حزب  اختلاف کی شکل میں رال ٹپکاتے ہوۓ سابق حکمرانوں)  سے چھٹکارہ حاصل کرنے کا جو جی بھر کے عوام اور قومی خزانے کو لوٹ چکے ہیں اور غیر ملکی حکومتوں سے وطن کی عزت اور آزادی کا سودا کرتے رہتے ہیں- پاکستان کو ایک ایماندار، خود دار، انصاف پسند اور جرات مند حکومت کی ضرورت ہے- اگر ہم نے ہوشمندی سے کام لیتے ہوۓ زرداری، گیلانی، اسفندیار، شریفوں، چودھریوں وغیرہ سے نجات حاصل کر لی تو یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہو گی-

تری زندگی اسی سے،  تری آبرو اسی سے
جو رہی خودی تو شاہی، نہ رہی تو روسیاہی

اگر ہم نے بد کردار، جرائم کے مرتکب لوگوں کو دوبارہ ووٹ دے کر کامیاب کر دیا تو ہم اپنے پاؤں پہ خود کلہاڑی ماریں گے-

آندھیو جاؤ اب کرو آرام 
ہم خود اپنا دیا بجھا بیٹھے

  

Thursday, January 20, 2011

No Way Out for Pakistan?


The pretender to Anne Patterson’s throne
So far as Pakistan is concerned the WikiLeaks’ disclosure of our rulers’ sell-out to the Americans appears to have been a bubble that burst all too soon. Initially frightened out of their wits, the Americans have dropped any pretence of showing respect towards their factotums who occupy the highest offices of state in Pakistan.

Cameron Munter, the new pretender to the throne vacated by Anne Patterson, has bluntly told the Pakistani puppets installed by the USA that the Americans will interfere in Pakistan’s “financial and governance” matters because, he boasted, the US was Pakistan’s largest aid provider. He said nothing, of course, about the terrible destruction wreaked on Pakistan by the Americans’ insane pursuit of their political objectives through warfare. The so-called “aid” is mere peanuts compared to the human and material losses suffered by Pakistan as a direct result of America’s nefarious activities in Central Asia and the Middle East.



Cattle, Puppets and Puppeteers

You might think that that the reaction to Munter’s humiliating remarks would be an outcry in Pakistan’s National Assembly and strident calls to the nation to unite against the American arrogance. Nothing of the sort happened. Pakistan’s Mafia-like leadership of criminals and fraudsters, whose darkest secrets are known to the American CIA, simply slunk away with bowed heads, their tails between their legs. In fact, the top dog dutifully flew all the way to Washington to attend a memorial service – and deliver a typically sycophantic eulogy – for Richard Holbrook, an oafish American diplomat who used to take particular delight in visiting Pakistan and bluntly giving a piece of his mind to the puppets who presented themselves before him.

The gentlemen and ladies who sit in Pakistan’s National assembly mostly owe their privileged positions to the patronage of the leaders of their respective parties. The MNAs dare not oppose any decision of their leader, however inimical to the interests of Pakistan, for the simple reason that the leader has the power to sack them on the spot. In practical terms, these “leaders” are the effective owners of the political parties they lead. Last summer these “leaders” conspired to give themselves autocratic powers by changing Pakistan’s constitution by means of “the 18th amendment”. This was a complex amendment which introduced several changes to the constitution, some good, some bad and some totally repulsive. In the last category fall such monstrosities as revoking the clause that requires political parties to hold elections, and allowing convicted criminals to stand in national elections! The way is thus open for revolting individuals such as Z and NS to remain party leaders for life and to pass on the succession to members of their families irrespective of what crimes they may have committed. It is said that the 18th amendment, which contained over a hundred amendments, was nodded through without discussion, the entire process taking no more than a couple of hours!

The sad fact is that Members of Pakistan’s National assembly are little better than a herd of cattle. They merely go where they are goaded by the puppets who, in turn, have their strings pulled by the puppeteers sitting in Washington. Democracy, Pakistani-style, is merely a form of dictatorship mixed in with unbridled corruption and abuse of power.

Way forward : the path of Iqbal and Jinnah









We need to look at any system of government and make an effort to understand how it operates. Thoughtlessly mouthing slogans such as “democracy” hides the monstrous fact that the Jamhoori Tamasha, the Democratic Circus, we have in Pakistan is one where layers of dictatorship exist, the uppermost layer being the dictatorship exercised from afar by the Americans, who determine the rulers of Pakistan and the policies that they are going to follow. Iqbal:


جلال پادشاہی ہو کے جمھوری تماشہ ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

Absolute power of a monarch, or Democratic Circus, both are equally futile;
There will be just tyranny and oppression if Deen is separated from politics.

To Jinnah, “Deen” was a Code of Conduct that we had to follow in life – see Dialogue with a Giant

Pakistan’s Jamhoori Tamasha پاکستان کا جمھوری تماشہ

All Pakistani political parties that pay homage to their Americans masters - refer to WikiLeaks to identify those parties - agree that the current PPP government, up to its neck in unbridled corruption, must be allowed to complete its 5-year term of office because that is the wish of their masters sitting in Washington! At the end of that term Washington will presumably award points for good behaviour, and one of its stooges will be selected to rule Pakistan for the following 5 years.

This Jamhoori Tamasha, the Circus of Democracy, must be brought to an end if Pakistanis are to be released from the grip of corrupt thieves and robbers controlling the reins of power. Toppling the government is straightforward because of the wafer-thin majority it has in Parliament. However, none of the political parties represented in National Assembly will dare to upset the apple cart for fear of offending their masters in Washington. So, we have the macabre political dance being performed by the likes of Nawaz Sharif (the creator of the disreputable 'Friendly Opposition', which guarantees the survival of Z & Co), Altaf Hussain and Fazlur Rehman. What, then, is the solution?

A solution which could spark a constitutional crisis

At this critical juncture in Pakistan’s history, the Supreme Court could play a decisive role. In view of the indiscriminate murders and targeted killings of Pakistan’s citizens that the PPP government is powerless to do anything about, galloping inflation and no-holds-barred corruption of the rich and the powerful, the Supreme Court could declare that the government is unable to fulfil its obligations under the constitution. Apart from the government’s inability to maintain law and order, it seems to be gripped with paralysis when it comes to implementing the Supreme Court judgments relating to the ex-convict who happens to be the president of Pakistan. The Supreme Court could conceivably dismiss the government for sheer incompetence and drag Z, kicking and screaming, before the Court to answer criminal charges against him. This would pave the way for mid-term elections and the formation of a new government.


Should the Chief Justice, Iftikhar Muhammad Chaudhry, take the bold step outlined here, the one thing that can be forecast with absolute certainty is a flood of damning articles by heavily bribed Pakistani hacks in a section of Pakistan's English language press. Expect endless talk of the judges exceeding their powers and creating constitutional chaos.
Seems to me that a revolution, Tunisia-style, could be another possibility. Are the people of Pakistan ready to explode? The sooner we end the bastardised parliamentary system we have in Pakistan the better it will be for the nation.



نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بُہت زرخیز ہے ساقی


Tailpiece

Religion, as commonly understood, is a mix of ideas and rituals, including unhealthy influences which defy common sense. Invariably, “religion” branches out into a multitude of sects headed by hidebound clerics at war with each other. Al-Quran speaks of Islam as DEEN, which I wrote about in the very first post in my blog. I ask my readers to read it, please, by clicking this link

 http://sakibahmad.blogspot.com/2009/10/islam.html

The religious parties which are so active in Pakistani politics today had, in fact, opposed the creation of Pakistan. More, they had declared both Iqbal and Quaid-e-Azam to be “kaafir”/infidel. One particular party stooped so low in its disparagement of Jinnah that it attached the label “Kaafir-e-Azam” to him. These religious parties deserve nothing but contempt from the people of Pakistan for their mischief making.

What we need in Pakistani politics is honesty, justice, and courage to resist tyranny and oppression. That was the DEEN or CODE OF CONDUCT that Iqbal and Jinnah talked about. Without that quality in politics we will end up with immoral political systems such as those we have in the USA and Pakistan. In some ways the USA political system is worse than Pakistan’s, because it denies genuine democracy to nations which are not yet considered “developed” and it allows the American government to launch murderous attacks on them, killing hundreds of thousands of their citizens with its hi-tech weaponry.

Search This Blog

Powered By Blogger