Pages

Saturday, May 28, 2016

بحریہ ٹاؤن لاہور: ایک بے روح بستی

لاہور تیزی سےبدل رہا ہے- مالدار لوگوں کو بسانے کے لئے نئی بستیاں ابھر رہی ہیں- عام لوگوں سے الگ تھلگ، بڑے بڑے پھاٹکوں اور فصیلوں کے پیچھے یہ "محفوظ" اور بے روح بستیاں یورپ اور امریکہ کے شہروں کی بھونڈی شکل اختیار کئے ہوۓ ہیں- انہی بستیوں میں غالباً سب سے بڑی "بحریہ ٹاؤن" ہے جسے بنانے والا ملک ریاض حسین وہی شخص ہے جس نے زرداری کو اس کے دور صدارت میں ایک عالیشان رہائش گاہ بنا کر تحفتاً دی تھی- بحریہ ٹاؤن ایک ایسا آئنہ ہے جس میں پاکستان کے براؤن صاحبان اپنی غلامانہ ذہنیت کا عکس بڑی وضاحت سے دیکھ سکتے ہیں-

شہر آباد کر کے شہر کے لوگ 
اپنے اندر بکھرتے جاتے ہیں            
                         [جون ایلیا ]

ملک ریاض نے مغرب کی اندھا دھند نقالی کو اپنی اولین ترجیح بنایا ہے- اس کا اچھا پہلو یہ ہے کہ سڑکیں کشادہ اور صاف ستھری ہیں اور لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کا معقول انتظام ہے- اگر ان اچھی باتوں کو اختیار کر کے ملک ریاض پاکستانیت کا عنصر اس نو آباد شہر میں داخل کر دیتا تو "بحریہ" لاھور کی ایک حسین بستی بن سکتی تھی- لیکن "ترقی" کا نعرہ لگانے والوں کے لئے ترقی کا مفہوم یہ ہے کہ اپنی شناخت اور روایات کو مٹا کر امریکیوں کی زبان، تہذیب اور قدروں کو گلے لگایا جائے- سڑکوں، دوکانوں، مسجدوں اور دل بہلانے کی جگہوں کے نام سب انگریزی میں ہیں- کہیں کہیں انگریزی کے ساتھ اردو کی تحریر بھی نظر آ جاتی ہے ورنہ بھاری اکثریت انگریزی میں ہی ہے- جامعہ مسجد کے باہر آپ کو صرف Jamia Mosque نظر آے گا اور عمر مسجد کے اوپر Omer Mosque کے بڑے بڑے حروف آپ کا منہ چڑا رہے ہوں گے-
تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا 
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

ملک ریاض سے درخواست ہے کہ ہر انگریزی کی عبارت کے ساتھ اردو کی تحریر ضرور لگانی چاہئیے- اس ضمن میں لاہور چھاؤنی اور"ڈیفنس" کے علاقے میں ہمارے فوجیوں نے بدترین ذہنی غلامی کی مثال  پیش کی ہے، جس کی تقلید کی ضرورت نہیں تھی- لاہور کے مغرب پرست طبقے کے لئے امریکی برگروں، پیزوں اور کوک کا معقول انتظام ہے- ایسی خوراک لوگوں کی صیحت پہ اثرانداز ہونے کے علاوہ زرمبادلہ امریکہ کو منتقل کرنے کا باعث بنتی ہے- غیر ملکی قرضوں میں جکڑا ہوا پاکستان اس کا متحمّل نہیں ہو سکتا-
یورپ کی غلامی پہ رضا مند ہوا تو 
مجھ کو گلہ تجھ سے ہے یورپ سے نہیں ہے 


مذاق  اپنا اپنا   

اپنے اپنے ذوق کی بات ہے- اگر آپ کو بحریہ میں پیرس کا آیفل ٹاور نظر آ جائے یا قدیم مصر کے نوادرات تو آپ کو کیسا لگے گا؟ 






No comments:

Search This Blog